بدھ 4 فروری 2026 - 11:16
ظہور کے بارے میں ایک حیرت انگیز حدیث

حوزہ/ یہ روایت، ظہورِ امام مہدی علیہ السلام سے قبل کے دورِ غفلت اور فتنوں کی ایک جامع تصویر پیش کرتی ہے اور ساتھ ہی منجیِ الٰہی کی پوشیدہ موجودگی پر زور دیتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس حدیث میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ایک مفصل اور نہایت خوبصورت حدیث کے ایک حصے کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں آپ نے منجی کے ظہور کی بشارت دی ہے۔

حدیث کے راوی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ہیں اور مخاطب صحابی رسول حضرت حذیفہ بن یمانؓ ہیں۔

ابتدا میں حضرت علی علیہ السلام حضرت حذیفہؓ کو نصیحت فرماتے ہیں کہ حقائق بیان کرتے وقت، بالخصوص اہلِ بیت علیہم السلام کے فضائل کے سلسلے میں، لوگوں کی فکری صلاحیت اور برداشت کو مدنظر رکھا جائے۔

اس کے بعد آپؑ عوام کی کوتاہیوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں، جن کے نتیجے میں ظالم اقتدار حاصل کر لیتے ہیں اور اہلِ بیت علیہم السلام ایک ایک کر کے شہادت کے درجے پر فائز ہوتے ہیں، یہاں تک کہ بات خاتم الاوصیاء حضرت امام مہدی علیہ السلام تک پہنچتی ہے۔ اس موقع پر آپؑ فرماتے ہیں:

"یہاں تک کہ جب میری اولاد میں سے ایک لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو جائے…"

یعنی وہ وقت آئے گا جب امام زمانہ علیہ السلام لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جائیں گے، فتنہ و بلا پورے معاشرے کو گھیر لیں گے، شیعوں کو گالیاں دی جائیں گی اور لوگ اپنے باطل خیال کے مطابق یہ گمان کرنے لگیں گے کہ اب کوئی حجتِ خدا باقی نہیں رہی اور امامت ختم ہو چکی ہے۔

لیکن امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:

خدا کی قسم! اللہ کی حجت باقی ہے۔ وہ گلیوں اور راستوں میں چلتا پھرتا ہے، مجالس میں شرکت کرتا ہے، مشرق و مغرب میں اپنے الٰہی فریضے کی انجام دہی کے لیے سفر کرتا ہے، لوگوں کو سلام کرتا ہے، مگر لوگ اسے پہچان نہیں پاتے۔ وہ دیکھتا ہے لیکن نظر نہیں آتا، یہاں تک کہ اس کے ظہور کا وقت آ پہنچے گا اور آسمان سے ایک منادی ندا دے گا۔

پھر حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

آگاہ رہو! وہ دن علی کی اولاد اور ان کے پیروکاروں کے لیے خوشی اور مسرت کا دن ہوگا۔

حوالہ:

نعمانی، الغیبۃ، صفحہ 142، باب 10، حدیث 3

ماخذ: دُرّ و یاقوتِ مہدوی، محمود اباذری

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha